Neon drop · Free ship $75+ · Enter the grid
Signal · Product Feed

The Joyous Science | Friedrich Nietzsche Tahira Iqbal تاریخ کو پڑھنا اور اُس

SKU: 38054257342

4.7
USD279.50 USD303.50

Pay in 4 interest-free payments of $69.88 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 30 - Sep 4

Live Spec

The Joyous Science | Friedrich Nietzsche Tahira Iqbal تاریخ کو پڑھنا اور اُسThe Joyous Science (originally Die frhliche Wissenschaft, often translated as The Gay Science or The Joyful Wisdom) is a cornerstone of Friedrich Nietzsche's philosophy, first published in 1882. Nietzsche himself described it as his "most personal" book, marked by a spirit of "exuberance, restlessness, contrariety, and April showers".

Store: www.coronastickers.nu · Domain: www.coronastickers.nu

Description

تاریخ کو پڑھنا اور اُس کے نتائج اپنے زمانے میں محسوس کرنا اور مستقبل کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا، زندہ قوموں کیلئے یہ تینوں کڑیاں یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔قرآن مجید بھی تاریخ بشری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ تلاوت کرنے والا اگر صاحب بصیرت ہو تو قرآن مجید اُس کے سامنے قوموں کی کامیابی اور ناکامی کے اصول رکھتا ہے۔ اپنے مخاطبین کے مسائل اُن کی تاریخ سے جوڑتا ہے۔ اُن کے سامنے اخلاقی اور عمرانی اصول رکھتا ہے۔ ترقی اور زوال کے اصول بتاتا ہے۔

of Pages 584 Format Hardbound Publishing Date 2021 Language Urdu رفعت ناہید سجاد،افسانہ نگار، ناول نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ اُن کا زیرنظر ناول ”چراغ ِآخر ِشب“ پاکستان کی تاریخ کے مد و جزر سے متعلق ہے۔یہ پاکستان کی کہانی ہے ، جس کے ماضی کی رُوداد لکھی جا چکی ، جس کے حال کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا اور جس کے مستقبل کے لیے نئے چراغ روشن کرنے ہوں گے۔ اس کے کردار بھی عام پاکستانی ہیں، جدوجہد کرتے، انقلاب کے تبدیلی کے خواب دیکھتے پاکستانی، سماج کو بدلنے کے لیے اپنے اپنے حصے کی اینٹ لگانے کی کوشش کرتے، ہرصبح ایک نئی امید، ہر شام ایک پرانی تھکن کے ساتھ۔ ادب کا ایک کام سماجی تاریخ کو رقم کرنا بھی ہوتا ہے، جس سے ہمارے یہاں صرفِ نظر کیا گیا، ہمارے یہاں کے ادب میں سیاسی منظرنامہ کم کم ہی ملتا ہے۔ رفعت ناہید سجاد نے اس ناول میں سماج میں تبدیلی کے لیے متحرک، استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے، عوامی تحریکوں میں زندگیاں تج دینے والوں کو اپنے کرداروں میں ڈھالا اور سماجی تاریخ میں زندہ کردیا ہے۔یہ کہانی کسی ایک نظریے کا پرچار نہیں۔ تاریخ کے بیان میں ،لکھنے والے کے انداز اور نکتہ نظر میں تو فرق ہو سکتا ہے، لیکن واقعات کی جمع تفریق میں نہیں۔ ” چراغ آخر شب“ کی کہانی ، روشنی کی وہ لکیر فراہم کر رہی ہے، جس کا سرا پکڑ کرموجودہ نسل ، جن کے دل اپنی زمین سے اکھڑنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں ،اپنے گھروں کو واپس لوٹے گی۔

) performed during the first ten days of Muharram

The Architect Apprentice / Elif Shafak

The Joyous Science | Friedrich Nietzsche Tahira Iqbal تاریخ کو پڑھنا اور اُسThe Joyous Science (originally Die frhliche Wissenschaft, often translated as The Gay Science or The Joyful Wisdom) is a cornerstone of Friedrich Nietzsche's philosophy, first published in 1882. Nietzsche himself described it as his "most personal" book, marked by a spirit of "exuberance, restlessness, contrariety, and April showers".

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products